Ticker

6/recent/ticker-posts

فائیو جی ٹاورز سے نکلنے والی شعائیں کس طرح سے ہماری صحت برباد کرتی ہیں ؟


کیمٹریل میٹالک نینو پارٹیکلس ( یعنی وہ زہریلے ذرات جو ہوائی جہازوں کے ذریعہ فضاؤں میں چھڑک دئے جاتے ہیں اور انسان انہیں سانس کے ذریعہ اندر لے لیتا ہے اور وہ پھیپھڑوں اور جسم کے دیگر حصوں میں چپک جاتے ہیں )
 
پھر جب 5G کی شعائیں تیز کی جاتی ہیں تو یہ ذرات حرکت میں آجاتے ہیں اور ہر اس عضو میں تکالیف پیدا کرتے ہیں جہاں وہ چپکے ہوئے ہوتے ہیں۔ تو ممکنہ طور پر یہ شعائیں سانس کے مسائل اور دیگر امراض کا سبب بنتے ہیں ۔

اسے ایک مثال سے سمجھئے :

بچپن میں ہم سب نے یہ کھیل بہت کھیلا ہوگا۔ایک مقناطیس کا ٹکڑا مٹی میں ڈال کر پھیریں گے تو کئی ذرات اس سے چپک جائیں گے ۔
پھر اسے علیحدہ کرکے کاغذ کے اوپر ڈال دیں تو وہ بے جان جیسے پڑے رہیں گے۔مگر جیسے ہی کاغذ کے نیچے سے مقناطیس کا ٹکڑا قریب لے جایا جائے گا ۔وہ ذرات حرکت میں آجائیں گے ۔ بس یہی سمجھانا تھا ۔
اوّل کیمٹریل چھڑکاؤ یا ویکسین کے ذریعہ جسم میں زہریلے ذرات داخل کرو اور پھر فائیو جی کی شعاؤں کو پھیلاؤ۔اور جب دونوں رابطہ میں آجائیں گے تو بس جسم میں پیوست ذرات حرکت میں آئیں گے اور انسانوں میں طرح طرح کی بیماریا جنم لیں گی اور انسانوں کی حرکت ہمیشہ کے لئے بند ہوجائیگی۔ 

اسکے علاوہ 5G کی خطرناک شعائیں فضا میں موجود اکسیجن کے سیلس کو فنا کردیتی ہیں اور اکسیجن کی کمی واقع ہوجاتی ہے ۔
اور انسانوں کو سانس لینے میں بڑی دشواری ہوگی۔

ٹکنالوجی اور انٹرنیٹ اسپیڈ اور نیٹ ورک کے نام پر فائیو جی کے ذریعہ اسی طرح نسل کشی کا منصوبہ بنایا گیا ہے ۔جو ابھی پوری طرح حرکت میں نہیں آیا ہے ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے