سر زمین ضلع بیڑ کی ادبی، ثقافتی، سماجی، سیاسی، زرخیزی سے جہان عالم فیض یاب ہو رہا ہے۔وہیں ضلع بیڑ کی تعلیمی زرخیزی خصوصا زبان اردو کی آبیاری میں باقی تمام اضلاع میں ہم نمایاں ہیں۔اردو مدارس کا تعلیمی معیار،زبان اردو میں تعلیم و تعلم،اردو کو ہی سیکھنے اور سکھانے کا ذریعہ بنانے کو ہم نے اپنا فرض اور ذمہ داری سمجھتے ہوئے اسے ہمیشہ بخوبی نبھایا ہے۔ اور اسی کا ثمرہ ہے کہ آج قوم و ملت کی خدمت کرتے ہوئے نظر آنے والے ڈاکٹرز ، انجینئرز،وکلا،اساتذہ ،سیاسی رہنما،اور اور تاجر حضرات زبان اردو کے توسط سے تعلیم یافتہ نظر آتے ہیں۔جو تمام کے تمام اپنے میدان عمل میں نمایاں اور کامیاب ہیں۔
لیکن آج ہم ہمارے ملک میں مسابقتی امتحانات میں ہمارے نتائج کو لے کر فکر مند ہیں۔ اور بہتر سے بہتر نتائج کے لیے ہم ہر سطح پر ممکنہ کوششوں میں مصروف ہیں۔
اسی کوشش کے تحت ایک چھوٹی سی کوشش کرنے کی ہمت اور ڈھارس
ضلع بیڑ کی ایک بہت ہی فعال، محنتی، اور اردو میڈیم کے طلباء کو ہر مسابقتی امتحانات اور مقابلوں میں آگے رکھنے کے لیے کوشاں ایک باحوصلہ خاتون خانہ دار جو کہ دو ننھے ننھے فرشتوں کی پرورش کے ساتھ ساتھ گھر کی تمام ذمہ داریوں کو بخوبی نبھاتے ہوئے۔اور اپنی خدمات درس و تدریس میں کی نمایاں انعامات و اعزازات حاصل کرنے کے باوجود بھی طلبہ کی اونچی اڑان کے لئے اور انہیں بال و پر دے کر شاہین بنانے کے لیے ابتدائی تعلیم سے ہی ان کو حوصلہ اور ہمت فراہم کرنے کی خاطر اپنی بے پناہ مصروفیات کے باوجود طلباء کو مسابقتی امتحانات کی بنیاد مضبوط بنانے کی خاطر ایک خوبصورت جامع، مفید کتاب پہلی اڑان کی تصنیف کی ہمت کی ہے۔
دراصل پہلی اڑان یہ مصنفہ شیخ سلمہ بیگم عبدالرشید ضلع پریشد
ہائی سکول نسوان بیڑ کی بھی میدان تصنیف میں پہلی اڑان ہے۔ اس کتاب کے مطالعے کے بعد آپ کو محسوس ہو گا کہ آپ نے یقینا بڑے حوصلے اور جگرے کا کام اتنی مصروفیات کے ساتھ ساتھ اس کتاب کو مرتب کر کے دکھایا ہے ۔کتاب بہت ہی عمدہ اور موجودہ مسابقتی امتحانات کی تیاری کو مدنظر رکھ کر تیار کی گئی ہے ۔بقول ڈاکٹر نواز دیوبندی صاحب
انجام اس کے ہاتھ ہے آغاز کرکے دیکھ۔
بھیگے ہوئے پروں سے بھی پرواز کرکے دیکھ۔
واقعی یہ کتاب ہمارے طلباء کے مسابقتی امتحانات کی بنیاد کو تیار کرنے میں اپنا اہم رول ادا کرے گی۔
شیخ سلمہ باجی کے کام کے بعد اہل اردو زبان و ادب، معلمین و معلمات کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے
کہ پہلی اڑان کی خوب سے خوب اشاعت کر کے اس کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کرے تاکہ پہلی اڑان اونچی اڑان بن جائے۔
میں شیخ سلمہ باجی کو آپ کی بہترین تصنیف پہلی اڑان کے لیے دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔اور اللہ تعالی سے دعا گو ہوں کہ اس پہلی اڑان کو اللہ تعالی اونچی اڑان بنائے۔
کسی منزل پہ ٹہرنا ہے نہ گھبرانا ہے۔
ہم ہیں سورج ہمیں سرگرم سفر رہنا ہے۔
نیک خواہشات اور دعاؤں کے ساتھ۔
محمد اسحاق بیڑ۔

0 تبصرے