جب خطرات کے بادل منڈلارہے ہوں ، طوفان کے آنے کا اندیشہ ہو، پہاڑوں کا اپنی جگہ چھوڑجانے کا ارادہ ہو اور قحط کی فضاء چھا گئ ہو تو ایسی صورت میں سمجھ دار انسان سویا نہیں کرتا ہے بلکہ اندیشوں و خطرات سے حفاظت کے لئے جہد مسلسل میں لگ جاتا ہے ، آج ہندوستان کے مسلمان اسی صورت حال سے دو چار ہیں، اس ملک کے معماروں نے اسکی بنیاد اکثریت اور سیکولرزم پر رکھی تھی، ملک کا دستور بھی اسی اصول پر مرتب ہوا، اور آج بھی محب وطن شہریوں کی یہی سوچ ہے، کیوں کہ اسی میں اس ملک کی بھلائی ہے ، اسی کے ذریعہ اس ملک کی سالمیت کو برقرار رکھا جاسکتا ہے اور یہاں امن و امان قائم رہ سکتا ہے
مگر افسوس کہ کچھ فرقہ پرست طاقتوں کو جنکے نام سے بھی گھن آتی ہے، جنکے دلوں میں بغض، کینہ اور عداوت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے انہیں ملک سے زیادہ اپنے اقتدار سے محبت ہے، وہ اس ملک کو آگ لگاکر اپنے قصر ِاقتدار کا چراغ روشن کرنا چاہتے ہیں، عوام کا خون کرکے اپنی پارٹیوں کو سینچنا چاہتے ہیں ، ہندو مسلم
کرکے سادہ لوح عوام کو بانٹنا اور ہندو ،مسلم بھائ بھائ کے نعرے کو مسمار کرنا چاہتے ہیں
تو ایسے حالات میں مسلمانوں کا فریضہ ہے کہ وہ اپنی آنکھیں کھلی رکھیں، شعور سے کام لیں، اور ہمت و حکمت کے ساتھ صورت حال کا مقابلہ کرتے ہوئے ہر پلیٹ فارم پر خواہ سوشل میڈیا ہو یا زمینی سطح پر سوچ سمجھ کر ، بزدلی کی چادر کو اتار کر آگے قدم بڑھاتے رہیں اور تکبیر مسلسل کا خیال رکھیں ان شاءاللہ جیت ہماری ہی ہوگی جیسا کہ حال ہی میں طلباء کی جیت کو پوری دنیا نے دیکھا۔۔۔۔۔

0 تبصرے