تحریر : دلیپ کمار شرما گوہاٹی
انڈیا کی مشرقی ریاست آسام میں 'غیر قانونی تجاوزات' ہٹانے کی حکومتی کارروائی کے نتیجے میں ہونے والے ہنگاموں میں کم از کم دو افراد کی ہلاکت کے بعد سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس پر لوگوں کی جانب سے شدید رد عمل سامنے آ رہا ہے اور انتظامیہ نے بھی معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہِے۔
آسام کے ضلع درنگ میں ہونے والے اس تصادم سے متعلق اس مبینہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہاتھ میں کیمرا لئیے ایک شخص ہلاک ہونے والے شخص کی لاش پر کود رہا ہے۔
بعد میں سامنے آنے والی اطلاعات کے بعد معلوم ہوا کہ کودنے والا شخص ایک مقامی فوٹوگرافر ہے جس کی خدمات ضلعی انتظامیہ نے صورتحال کو ریکارڈ کرنے کے لئے حاصل کی تھیں۔ اس واقعے کے بعد اس شخص کو شناخت کر لیا گیا ہے اور حراست میں لے لیا گیا ہے۔
ریاستی حکومت نے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ حکومت آسام کے ہوم ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے کی گوہاٹی ہائی کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کی قیادت میں انکوائری کی جائے گی۔
البتہ وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے گوہاٹی میں کہا ہے کہ تجاوزات ہٹانے کی مہم کو نہیں روکا جائے گا۔
اس کارروائی میں مظاہرین میں سے دو افراد کی ہلاکت کے علاوہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے ایک پولیس اہلکار اسسٹنٹ سب انسپکٹر منیر الدین کو گوہاٹی میڈیکل کالج ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے اور ان کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
ہلاک ہونے والوں کی شناخت صدام حسین اور شیخ فرید کے نام سے ہوئی ہے۔
کانگریس لیڈر نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کووِڈ کی وبا کے اس بحران کے دوران گوہاٹی ہائی کورٹ نے بے دخلی کی مہم کو معطل کرنے کی ہدایت دی تھی لیکن وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما کی من مانی کی وجہ سے دھول پور میں 1970 سے آباد لوگوں سے زمین خالی کرا دی گئی۔
انھوں نے کہا کہ لوگوں کے بے دخل کرنے سے پہلے حکومت کو ان لوگوں کو دوسری جگہ آباد کرنے کا انتظام کرنا چاہیے تھا۔
صحافی روہنی سنگھ نے بھی اسی طرز کا تبصرہ لکھا اور کہا کہ ’نوئڈا میں بیٹھے ہمارے خون کے پیاسے اینکرز نے اقلیتوں کے خلاف اس قدر نفرت بھر دی ہے کہ انھوں نے متاثرہ افراد کی انسانیت بھی چھین لی ہے اور ان کی جو نفرت پر مبنی جرائم کرتے ہیں۔ آج جو ہولناک مناظر ہم نے آسام میں دیکھے یہ اسی زہر کا نتیجہ ہیں۔ یہ نفرت کسی بھی نہیں بخشے گی۔
انتظامی کارروائی کا پس منظر
اس واقعے کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے ضلع درنگ میں موجود 'کل آسام اقلیتی طلبہ یونین' کے مشیر عین الدین احمد نے بی بی سی کو بتایا: 'آج صبح پانچ ہزار سے زائد لوگ حکومت کی جانب سے نکالی جانے والی مہم کے خلاف احتجاج کے لیے جمع ہوئے تھے'۔
’ضلعی انتظامیہ کے اہلکار لوگوں کے گھروں کو مسمار کر رہے تھے۔ اس دوران دونوں فریقوں کے درمیان جھڑپ شروع ہو گئی اور پولیس نے فائرنگ کر دی۔ دو افراد ہلاک اور 20 سے زائد افراد زخمی ہو گئے'۔
درحقیقت 20 ستمبر کو آسام حکومت کے حکم کے بعد ضلع درنگ کے سپاجھر علاقے میں انتظامیہ نے ایک مہم میں کم و بیش 800 خاندانوں کو ساڑھے چار ہزار بیگھا اراضی کے قبضے سے بے دخل کر لیا۔
جب تقریباً دو سو خاندانوں کے خلاف جمعرات کی صبح دوبارہ بے دخلی کا آپریشن چلایا جا رہا تھا اور تب ہی فائرنگ کا یہ واقعہ پیش آیا۔
سینکڑوں لوگ جن کے خلاف آسام کی حکومت نے 'غیر قانونی تجاوزات' کے نام پر بے دخلی کی مہم شروع کی ہے ان کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ سب مسلمان ہیں۔ ایک معلومات کے مطابق سرکاری زمین خالی کرنے کے بعد سینکڑوں لوگوں نے دریا کے کنارے پناہ لی ہے۔

0 تبصرے