Ticker

6/recent/ticker-posts

غزل

 جب تجھے بیٹھ کے سوچوں تو غزل ہوتی ہے

تری تصویر کو دیکھوں تو غزل ہوتی ہے


ہم مسافر ہیں ہماری کوئی منزل ہی نہیں 

 ترے کوچے  سے جو بھٹکوں تو غزل ہوتی ہے


میرے سینے میں چھپارہتا ہے  جو درداکثر 

اسکو لفظوں میں نچوڑوں تو غزل ہوتی ہے


ذہن افلاس یا پھر درد ہو سر میں لیکن

چائے دوچار جو پی لوں تو غزل ہوتی ہے


کشت افکار کی اٌگتی ہیں جو سینے میں مرے

گر اسے خون سے سینچوں تو غزل ہوتی ہے


دوست کے نام پہ لکھتا ہوں قصیدہ لیکن

جب کسی دوست کو پرکھوں تو غزل ہوتی ہے


ہجر کی رات ہے میرے  لئے نعمت کاظم

رات اٹھ اٹھ کے جو روئوں  تو غزل ہوتی ہے

🖋✏

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے