جب تجھے بیٹھ کے سوچوں تو غزل ہوتی ہے
تری تصویر کو دیکھوں تو غزل ہوتی ہے
ہم مسافر ہیں ہماری کوئی منزل ہی نہیں
ترے کوچے سے جو بھٹکوں تو غزل ہوتی ہے
میرے سینے میں چھپارہتا ہے جو درداکثر
اسکو لفظوں میں نچوڑوں تو غزل ہوتی ہے
ذہن افلاس یا پھر درد ہو سر میں لیکن
چائے دوچار جو پی لوں تو غزل ہوتی ہے
کشت افکار کی اٌگتی ہیں جو سینے میں مرے
گر اسے خون سے سینچوں تو غزل ہوتی ہے
دوست کے نام پہ لکھتا ہوں قصیدہ لیکن
جب کسی دوست کو پرکھوں تو غزل ہوتی ہے
ہجر کی رات ہے میرے لئے نعمت کاظم
رات اٹھ اٹھ کے جو روئوں تو غزل ہوتی ہے
🖋✏

0 تبصرے